بنگلورو ،24؍ جولائی (ایس او نیوز) جن لوگوں نے اب تک اگربتی کا کاروبار شروع کیا ہے ان کی آمدنی میں دوگنا اضافہ ہوا ہے ۔ مذہبی مقامات اور تہواروں کے موقع پر اگربتی کا استعمال کثرت سے ہوتا ہے۔ اگربتی جلانے کی روایت صدیوں سے چلی آرہی ہے ۔ زمانہ قدیم میں اگربتی کو بیوپار ی اشیاء کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔ زمانے کی تبدیلی کے ساتھ ہی اگربتی کے کاروبار میں بھی کئی تبدیلیاں آگئی ہیں ۔
آل انڈیا اگربتی مینوفیکچرنگ اسوسی ایشن (اے آئی اے ایم اے ) کے شرت بابو کے مطابق اگربتی نے ملک میں 20 لاکھ سے زائد افراد کو روزگار کا موقع فراہم کیا ہے ۔ جن میں تقریباً 80 فیصد تعداد خواتین کی ہے ۔ اگربتی کے کاروبار کرنے والوں میں سے تقریباً 50 فیصد افراد کرناٹک میں مقیم ہیں ۔ خواتین کی تنظیمیں اگربتی تیار کرنے اور اس کی پیکنگ میں مصروف ہیں ۔ ان کی مالی حالت میں سدھار لانے کیلئے اگربتی کا کاروبار مفید ثابت ہورہا ہے ۔آئندہ دنوں میں اگربتی کی مانگ میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے ۔ اس لئے اے آئی اے ایم کے ارکین نے دیہی علاقوں میں اگربتی تیار کرنے کی تربیت دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں نے بتایاکہ تقریباً 10 لاکھ سے زائد خواتین اگربتی تیار کرنے اور اس کو پیاک کرنے سمیت دیگر کاموں میں مصروف ہوگئی ہیں اور اس سے انہیں فائدہ بھی پہنچ رہا ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ چند سالوں سے اگربتی کی تیاری میں زبردست اضافہ ہوا ہے ۔ جس کے نتیجہ میں کئی افراد خصوصاً خواتین کو روزگار کی سہولت فراہم ہورہی ہے ۔ گزشتہ 3 سالوں میں اگربتی کا کاروبار ملک اور دیگر مقامات میں تیزی سے پھیل رہا ہے ۔ گزشتہ 4 سالوں میں تقریباً 15فیصد کی ترقی ہوئی ہے ۔